ابنا: وزیراعظم نوازشریف نے ایف سی اہلکاروں کے قتل کوسنگین اور بہیمانہ جرم قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے واقعات مذاکراتی عمل پر نہایت منفی اثرات ڈال رہے ہیں۔ پاکستانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا نواز شریف ، ان سنگین ، بھیانک اور بہیمانہ جرائم کا ارتکاب کرنے والےطالبان دہشت گردوں کے خلاف کیا اقدامات کرتے ہیں کیا وہ الفاظ استعمال کرکے طالبان دہشت گردوں کو قانون کے شکنجے سے پھر آزاد کرانے کی کوشش کریں گے یا پھر طالبان کے خلاف کوئی ٹھوس اقدام عمل میں لائیں گے۔ذرائع کے مطابق طالبان دہشت گردوں کے سرپرست مولانا سمیع الحق اور لال مسجد کے مولانا عبد العزيز، نواز شریف کے معتمد اعلی ہیں اور وہ طالبان کے خلاف فی الحال کوئی کارروائی نہیں کریں گے۔پاکستان کی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے ارکان نے کہاہے کہ طالبان دہشت گرد تنظیم ،پاکستان میں چنگیزخان اور ہلاکوں خان کی بربریت کی داستانیں رقم کررہے ہیں اورانٹرنیٹ کے ذریعہ اپنی سفاکانہ کارروائیوں کی وڈیو جاری کررہے ہیں طالبان دہشت گردوں نے ایف سی کے 23 مغوی اہلکاروں کے قتل کے بعد انکی سربریدہ لاشوں کی بے حرمتی کی وڈیو انٹرنیٹ پر جاری کردی ہے ۔رابطہ کمیٹی نے ایک بیان میں کہاکہ تحریک طالبان پاکستان نے گزشتہ روز مہمند ایجنسی میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے 23 مغوی اہلکاروں کے قتل کے بعد انکی سربریدہ لاشوں کی بے حرمتی کی وڈیو انٹرنیٹ پر جاری کردی ہے۔وڈیو فلم میں تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں کے ہاتھوں ایف سی کے 23 اہلکاروں کو قتل کئے جانے کے بعد کی انتہائی دہشت ناک مناظر ہیں ۔اس وڈیو میں طالبان کی سفاکیت اور بربریت کے مناظر اور ایف سی اہلکاروں کی لاشوں کی بے حرمتی کے مناظر دیکھ کر ایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں موجود رابطہ کمیٹی کے ارکان آبدیدہ ہوگئے۔ شہید کیے جانے والے 23اہلکاروں کی تمام لاشیں سربریدہ تھیں اورانکے گلے کاٹ کر سرتن سے جدا کردیئے گئے تھے۔رابطہ کمیٹی نے کہاکہ ان 23 اہلکاروں کو صرف شہید ہی نہیں کیا گیا، ان کے صرف سر ہی قلم نہیں کیے گئے بلکہ جس طرح انکی سربریدہ لاشوں کی تذلیل اور بے حرمتی کی گئی ہے اسے دیکھ کر روح کانپ جاتی ہے اور انسانی ذہن سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ کیا اس قسم کی حرکت کرنے والے انسان بھی ہوسکتے ہیں؟ اور کیا یہ بربریت اسی خطہ زمین پر واقع ہوئی ہے جہاں انسان بستے ہیں یا یہ المناک واقعہ کسی اور سیارے پر بسنے والی کسی مخلوق سے سرزد ہوا ہے ۔ رابطہ کمیٹی نے وزیراعظم پاکستان ، چیف آف آرمی اسٹاف اور وفاقی وزیرداخلہ اور فوج کی دیگر اعلیٰ قیادت سے اپیل کی کہ وہ اپنے دل پر پتھر رکھ کر اس لرزہ خیز وڈیو کو ضرور دیکھیں تاکہ انہیں اس واقعہ کی سنگینی کا احساس ہوسکے ۔ رابطہ کمیٹی نے حکومت سے سوال کیا کہ ایف سی کے ان مظلوم اور شہید اہلکاروں کے ساتھ ہونے والے انسانیت سوز سلوک کے بعد بھی اگر اس ظلم کے ذمہ داروں کے خلاف کوئی ٹھوس اور حتمی ایکشن نہ ہوا تو اس سے باقی جوانوں اور اہلکاروں کا حوصلہ بلند ہوگا یاان میں مایوسی اوربددلی پھیلے گی ۔رابطہ کمیٹی نے کمزور دل رکھنے والے حضرات سے دردمندانہ اپیل کی کہ وہ اس وحشیانہ اور سفاکانہ قتل عام کی وڈیو ہرگز نہ دیکھیں۔
.......
/169